آیئے تعمیرِ نوع کریں ایک برتر پاکستان کے لیے
اسلامی قوانین پر عمل اور فلاحی ریاست کا قیام

Click for English Translation

تحریرو تحقیق زاہد اکرام 

Islamic Law

fb.com/Zahid.Ikram.Official
View as Facebook Slides https://web.facebook.com/pg/Zahid.Ikram.Official/photos/?tab=album&album_id=802678643224083

پاکستان ۲۷ رمضا ن المبارک کے مقدس دن قدر والی رات کواسلام کے نام  یعنی پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ اور محمدؐ رسول اللہ پر حاصل کیا گیا تھا مگر بدقسمتی سے آج تک ہم اسے ایک حقیقی ا سلامی فلاہی مملکت بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ زیادہ تر مغربی طاقتیں سیکولر (لادینی) پاکستان کی خواہاں ہیں اور اس کے اسلامی مملکت بننے میں حائل ہیں۔

 پاکستان ایک اسلامی مملکت بن کر ہی ایک حقیقی فلاہی مملکت بن سکے گا۔ اگر سنگاپو رجیسا ایک جدت پسند ملک سخت ترین قوانین اور سزائیں نافذ کر سکتا ہے ، تو پاکستان کیوں نہیں؟

یہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا خواب تھا اور قائدِاعظم محمد علی جناح نے آذادی کے عظیم مجاہدین اور راہنماؤں کے ساتھ مل کر ہمیں ایک آذاد وطن پاکستان دیا اور یہیں پر اس تحریک کا اختتام نہیں ہو گیا۔ اب پاکستان کی آزدی کے بعد پاکستانی عوام کی ذمّہ داری ہے کہ وہ اصل مقاصد یعنی اسے صحیح معنوں میں ایک فلاحی ریاست بنائیں اور انسانوں کی آذادی حاصل کریں جیسا کہ اللہ کا حکم ہے اور جس کا پاک زمین پر اطلاق کا اظیار علامہ اقبال اور محمد علی جناح نے بھی ہم سب پر کیا تھا ۔ حقیقی فلاہی ریاست کا نفازاور انسانوں کی آذادی کا معاملہ آج تک حاصل نہ ہو سکا۔

جب تک آئینِ انسانیت یعنی قرآن کا نفاذ نہ ہو جائے ہم کبھی حقیقی معنوں میں آذاد نہیں ہو سکتے۔ یاد رہے کہ یہی تمام انسانیت کا مقصدِ اعلیٰ ہے۔ انسانوں کی تمام تر اجتمائی کوشش قرآن کے انصاف کے قوانین کے نفاذ کی ہی حقیقی کوشش ہو گی چونکہ اسی میں ہی تمام انسانیت کی بھلائی مضمر ہے

خبردار! سکوتِ ڈھاکہ ہمارے لیے عذابِ خداوندی اور ناراضگی کا اظہار ہے اللہ پاک رحمتِالعالمینﷺ کے صدقے ہم پر ہمیشہ سے مہربان ہے۔قرآنِ پاک گزشتہ قوموں کے اسبابِ زوال سے بھرا ہوا ہے۔ وہ قوم جو کہ اللہ کی چہیتی قوم تھی اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو ان کےعلاقے سے بے دخل کیا اور ان کو ہر طرح کے زوال کا سامنا رہا۔ حتہ کہ اللہ پاک کی طرف سے یروشلم سے کعبہ بھی مکہ مکرمہ میں منتقل کر دیا گیا۔ ہم نے پاکستان کو دینِ اسلام کے نام پر حاصل کیا مگر بد قسمتی ہے کہ آج تک یہاں اسلامی نظام کا قیام نہیں کر سکے۔ ابھی بھی ہمارے پاس آخری موقعہ ہے کہ ہم اسلامی فلاحی ریاست کا قیام آئینِ اسلام کےنفاز سے کر لیں یا پھر عذاب کے لیے تیار ہو جائیں

اسرائیل کا کوئی تحریری آئین نہیں ہے، کیونکہ تمام یہودیوں کو یقین ہے کہ تورات کے مقابلے میں کوئی کتاب یا دستاویز زیادہ مقدس نہیں ہوسکتی ہے.
قرآن مجید اسلامی ریاست کا آئین ہونا چاہئے. ہمارے قانون میں قرآن مجید کے قوانین کو توڑنے پر موت کی سزا نہیں ہے، لیکن بدقسمتی سے اگر آپ پاکستان کےآئین کو توڑتے ہیں تو موت کی سزا ہے. ہمیں انسان کےتشکیل کردہ آئین کو مسترد کرنا ہوگااور قرآن مجید کے قوانین کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین کرار دینا ہوگا.

تمام اسلامی ملکوں کو متحد ہونا چاہیےاور کم از کم مندرجہ ذیل برقرار رکھیں

خلافت کے تحت عالمی اسلامک ستیٹ قایم کی جائے

اسلامی ممالک کے تمام شہریوں کے لئے مفت داخلہ / کام کی اجازت ہوگی

مشترکہ بیت المال کا قیام آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اور کسی بھی دوسرے مالیاتی اداروں کے ذریعہ سود پر قرض سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے

تمام اسلامی ممالک ی مشترکہ مسلح افواج کا قیام

تمام اسلامی ممالک کے لئے مشترکہ کرنسی (کاغذی نوٹ نہیں بلکہ گولڈ یا دوسرے دھاتی سکوں کا استعمال)

کسی بھی مسلم ملک کے تمام قدرتی وسائل جیسے درخت، زرعی پیداوار، تیل، گیس، معدنیات، گولڈ، ڈائمنڈ اور سلور وغیرہ کو تمام معاشرے میں برابر تقسیم کیا جائے

اپنے سوشل میڈیا، نیوز اور تفریحی چینل کو قائم کیا جائے

نظامِ سرمایاداری، ملوکیت، مذہبی پیشوائیت کو ختم کیا جائے بینکنگ اور انشورنس کو اور ڈیجیٹل اور کاغذی کرنسیوں کو ختم کیا جائے

تمام معاشروں، فرقوں، اور ذاتوں وغیرہ کے درمیان امن اور ہم آہنگی لائیں

تمام زرعی زمین اور پراپرٹیز، ملز اور فیکٹریاں بیت المال کے نیچے کنٹرول کی جائیں

اسلامی ریاست کو ہر شہری کام کرنے کے قابل یا نا قابل شخص اور حتہ کہ بیروزگار افراد کو  بنیادی خوراک گھر، صحت، تعلیم، مہارت اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کی ذمہ دار ہو گی

خلیفہ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ اگر کوئی کتا نیل کے ساحل پے بھوک سے مر جاتا ہے تو اللہ کے سامنے عمر جوابدہ ہو گا! جانوروں کا کیسا عمدہ خیال،کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ ایک اسلامی فلاح و بہبود کی ریاست کے حکمران پر انسانوں کی دیکھ بھال کی کیا مثال ہوگی . اسلام کسی کو کسی بھی بینک میں اپنا مال جمع کرنے کی اجازت نہیں دیتا.

سُوۡرَةُ الهُمَزة

ٱلَّذِى جَمَعَ مَالاً۬ وَعَدَّدَهُ ۥ (٢) يَحۡسَبُ أَنَّ مَالَهُ ۥۤ أَخۡلَدَهُ ۥ (٣) كَلَّا‌ۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِى ٱلۡحُطَمَةِ (٤) وَمَآ أَدۡرَٮٰكَ مَا ٱلۡحُطَمَةُ (٥) نَارُ ٱللَّهِ ٱلۡمُوقَدَةُ (٦) ٱلَّتِى تَطَّلِعُ عَلَى ٱلۡأَفۡـِٔدَةِ (٧) إِنَّہَا عَلَيۡہِم مُّؤۡصَدَةٌ۬ (٨) فِى عَمَدٍ۬ مُّمَدَّدَةِۭ (٩)

جو مال جمع کرتا اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے (۲) (اور) خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کی ہمیشہ کی زندگی کا موجب ہو گا (۳) ہر گز نہیں وہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا (۴) اور تم کیا سمجھے حطمہ کیا ہے؟ (۵) وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے (۶) جو دلوں پر جا لپٹے گی (۷) (اور) وہ اس میں بند کر دیئے جائیں گے (۸) (یعنی آگ کے) لمبے لمبے ستونوں میں (۹)

 سُوۡرَةُ لهب / المَسَد

مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُ مَالُهُ ۥ وَمَا ڪَسَبَ (٢) سَيَصۡلَىٰ نَارً۬ا ذَاتَ لَهَبٍ۬ (٣)نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا (۲) وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گا (۳)

سُوۡرَةُ المَاعون 

أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِى يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ (١) فَذَٲلِكَ ٱلَّذِى يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ (٢) وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ (٣) فَوَيۡلٌ۬ لِّلۡمُصَلِّينَ (٤) ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِہِمۡ سَاهُونَ (٥) ٱلَّذِينَ هُمۡ يُرَآءُونَ (٦) وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ (٧)

بھلا تم نے اس شخص (منافق) کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے؟ (۱) یہ وہی (بدبخت) ہے، جو یتیم کو دھکے دیتا ہے (۲) اور فقیر کو کھانا کھلانے کے لیے( لوگوں کو) ترغیب نہیں دیتا (۳) تو ایسے نمازیوں کی خرابی ہے (۴) جو نمازقاہًم کرنے کی طرف سے غافل رہتے ہیں (۵) جو ریا کاری کرتے ہیں (۶) اور برتنے کی چیزیں عاریتہً نہیں دیتے (۷)

اسلام نے تمام انسانوں کے لئے احترام کی زندگی اورقابلِ احترام روزی روٹی کے مواقع فراہم کیے ہیں. ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنی تمام بچت کو فلاح و بہبود پر خرچ کریں گے نہ کہ مال جمع کریں

بینکنگ سسٹم اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے، یہاں تک کہ اسلامی بینک اسلام کی روح کی پیروی نہیں ہیں اور جس طرح شراب گھر کا نام اسلامی شراب گھر کا نام دینے سے حلال نہیں ہو جاتا۔

اسلام نے بچت اکاؤنٹ اور بینکنگ کے نظام کی حوصلہ شکنی کی ہے جس میں سود شامل ہے، اللہ نے سود کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے. اسلامی ریاست افراد کے اجتماعی کام کاج کے بدلے میں سب کے لئے کھانا اور پناہ گاہ کی ذمہ دار ہے. اگر کوئی معذور یا بیمار ہو یا کام نہیں کرسکتا، یا ملازمت سے فارغ  ہے، ریاست اس کے اور اس کے خاندان کے لئے بھی ذمہ دار ہوگی. لوگوں کو ان کی بچت پر منافع سے لطف اندوز کیا جاتا ہے جو اسلامی قوانین کے مطابق غیر منصفانہ ہے، کیونکہ اس میں کوئی محنت نہیں ہے اور یہ سود ہے، یہ صرف آپ کی سرمایہ کاری پر منافع ہے. لوگوں کو خوشی محسوس ہوتی ہے کہ 10-12٪ منافع لیں اور2.5 فی صد زکات کے طور پر دیں. لوگوں نے اللہ کے سوا کچھ اور معبودوں کو بھی شریک کیا ہوا ہے، ہم نے تمام قسم کے بینکنگ سسٹم کو ختم کرنا ہے اور صرف بیت المال کو مرتب کرناہے.  ہ

اللہ خیرالرازقین ہے تو لوگ بھوکے کیوں مرتے ہیں؟
اللہ نے اپنی تمام نعمتیں سب انسانوں کیلیئے مفت اور یکساں وقف کی ہیں، چاہے کوئی گورا ہو یا کالا، عربی ہو یا عجمی ، اللہ اپنی ساری مخلوق کا رب ہے۔ مثال کے طور پر سورج کی حرارت اور روشنی سب کیلیئے مفت اور یکساں، اسی طرح چاند کی چاندنی ، آسمان کی چھت ، ہوا ، بارش اور پانی وغیرہ سب کیلیئے مفت اور یکساں! تو پھر زمین اور رزق کی تقسیم سب کیلیئے یکساں کیوں نہیں؟ 
اللہ پاک نے یقیناًیہ زمین اپنی سب مخلوقات جو اس پر آباد ہیں سب کو مفت اور یکساں عطا کی، مگر کچھ شاطر اور طاقتور لوگوں نے اس پر اپنا قبضہ جما لیا اور کمزوروں کو اپنا محکوم بنا لیا۔ آپ کسی لینڈ لارڈ سے پوچھیے کہ کیا یہ زمین اس نے اللہ سے خریدی ہے؟ نہیں ہرگز نہیں، یا تو زمین اس نے کسی قابض انسان سے خریدی یا وراثت میں پائی یا کسی حکومت نے اسے یا اسکے آباؤ اجداد کو نوازا ہوگا یا اسکے آباؤ اجداد اس زمین پر کسی وقت قابض ہوگئے تھے۔ غرض جس کی لاٹھی اس کی بھینس، یہی قابضین ہی امیری اور غریبی کے ذمہ دار ہیں اور رزق کی تقسیم بھی انہی لوگوں کی مرہونِ منت ہے نہ کہ اللہ کی! یقیناًاللہ ہی خیر الرازقین ہے، انسان بیج بوتا ہے اللہ کی زمین میں، پانی اللہ کا دیا ہوا، سورج اور چاند بھی اللہ کے پیدا کئے ہوئے، ہوا
بھی اللہ کی عطا کی ہوئی اور بیج بھی اللہ کا ہی پیدا کیا ہوا تو پھرروزِ قیامت یہ قابض لوگ اللہ کو کیا جواب دیں گے؟

 لوگوں نے قانونی ملکیت کے بغیر زرعی زمین کو غریب مزاروں کو 50 فی صد فصلوں کا اشتراک مزاریت پر دیا ہوا ہے.
جاگیردار جوچندایکڑ سے لے کر ہزاروں ایکڑ زرعی زمین کی ملکیت رکھتے ہیں اور وہ دوسرے انسانوں کا غیر قانونی طور پر حصہ ہڑپ کرتے ہیں اسلامی قانون انسانوں کو زمینی جاگیرداری کی اجازت نہیں دیتا. تمام زمینوں کوبیت المال کے ماتحت لیا جاۓ؛ بیت المال تمام زمین کی پیداوار اور اسکے چھپے ہوئے خزانوں کو عوام کے ساتھ شیئر کرے گا کیونکہ ریاست اپنےمعاشرے کی تمام بنیادی ضروریات کی ذمہ دار ہے.  

ہمیں اسلامی قوانین کے نفاذ کی اشد ضرورت ہے جو کہ اسلام کے حقیقی معنوں کے عین مطا بق ہوں

نظامِ انصاف کے لئے مساوات کو فروغ دیں. قانون ہر امیر یا غریب، طاقتور یا کمزور کے لئے یکساں ہو

حکومت کا پوری قوّت سے نفاذ، ملک بھرمیں زندگی کے تمام شعبوں میں نظم و ضبط کی پابندی، قانوانین کا احترام، اسلامی نظامِ حکومت اور انتخابی اصلاحات درکارہیں

ریاست صحت اور تعلیم کی ذمہ دار ہو. تمام شہری مسلمان یا غیرمسلمان سب کی فلاح و بہبود اور حقوق انسانی کا تحفظ کیا جائے

تمام مذاہب اور ان کے پیروکاروں کو مکمل آزادی حاصل ہو کہ وہ اپنے مذہب اورمذہبی رسومات پرعمل کرسکیں

نظامِ نماز و زکات کا نفاذ کمیونٹی مساجد سے قرآنِ پاک کی روشنی میں کیا جائے جیسا کہ بارہا حکم ہے کہ وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ

مقامی انتظامیہ کے تحت ہر یونین کونسل میں لوکل کمیونٹی کے لئے بیت المال (فلاح و بہبود فنڈ) قائم کیا جائے

کسی بھی انتخاب کے تمام امیدواروں کو سچا اور قابل اعتماد (صادق اور امین) اور عزت دار شہری ہونا چاہئے. وہ کبھی بھی بینک قرض / یوٹیلٹی بل کا نادہندہ نہ ہو، اور وہ کسی بھی جرم میں کبھی بھی سزا یافتہ نہ ہو

تمام اراکینِ اسمبلی کی تنخواہ اور دیگرالاونس عام شہریوں کی اوسط آمدنی سے زیادہ نہیں ہوگے اور منتخب اراکین کو کسی کاروبار / ملازمت کی اجازت نہیں ہوگی

کوئی وی آئی پی پروٹوکولز اور سیکیورٹی منتخب ارا کین کو نہیں دی جائے گی، جن میں حکومتی شخصیات جیسا کہ صدر، وزیرِِاعظم ر وزیر اعلی، گورنر، ایم این اے، ایم پی اے. میئرز، یو سی چیئرمین وغیرہ شامل ہیں

تمام حکومتی نمائندہ، ریاست کے سربراہ، وزیراعلی، گورنرز، پبلک آفس ہولڈرز، سرکاری ملازمین اور سرکاری اہلکاروں کو سادہ طرز زندگی اپنانا چاہیےسادہ گھروں کو اپنایا جائےاور وی آئی پی کلچر کو ترک کر دینا چاہیے

وی آئی پی پروٹوکول صرف ان لوگوں کو دیا جائے جنہوں نے ٹیکس کی کی ادائیگی اورکمیونٹی ویلفیئرمنصوبوں کی تکمیل سے ریاستی معیشت میں زیادہ تعاون کیا ہے

غیر ملکی درآمد شدہ یا تیرہ سو سی سی سے زائد آرام دہ گاڑیاں سرکاری ملازمین یا اراکینِ اسمبلی کو ان کے ذاتی استعمال کے لۓ نہیں دی جائیں گی اورنہ ہی کوئی ذاتی ڈرائیور،پٹرول اورگاڑی کی دیکھ بھال کا خرچ دیا جائے گا بلکہ گاڑی پر تمام اخراجات کی ادائیگی کا زمہ گاڑی کے سرکاری مالک پر ہو گا

ریاست کی ذمہ داری ہوگی کہ تازہ، صاف اورمیٹھا پینے کا پانی، متوازن غذا، گھرکی چھت، صحت کی دیکھ بھال، صحت افزا ماحول تمام غریب اور ضرورت مندوں کو مہیا کرے

یورپی ممالک کی آبادی بہت تیزی سے اور خطرناک طور پر کم ہو رہی ہے. چند سالوں میں بہت سے ممالک کولوکل آبادی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا اور مسلم کی آبادی میں اضافے کا سامنا ہے. چونکہ اسلام تعلیم دیتا ہے کہ اللہ بہترین رزق فراہم کرنے والا ہے. اس دنیا میں آنے والی تمام ارواح اپنے کھانے اور دیگر وسائل پیدا کرنے کا موقع رکھتی ہیں. چین اپنی بڑی آبادی کی طاقت کے ساتھ تیزی سے بڑھتی ہوئی اکانومی ہے.
پاکستان کو اسلامی اسٹیٹ ہونے کے ناطے خاندان کے منصوبہ بندی سے آبادی پر قابو پانے کی بین الاقوامی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے . ہم ان کی مثبت ترقی، صحت اور تعلیم کے لئے اضافی فنڈز اور وسائل کے ذریعہ ایک بڑے خاندان کی حمایت کریں یہ دنیا کے لئے ہنر مند افرادی قوت کی پیداوار کا نتیجہ ہوگا، جو ہمارے خاندانوں اور ہمارے ملک کے لئے بہت سارا غیر ملکی سرمایہ بھی حاصل کرے گا

آئی ایم ایف اور عالمی بینک وغیرہ کے غیر قانونی قرضوں کی ادائیگی بند کریں
بین الاقوامی قوانین کے تحت، یہ قانون ہےکہ غیرمستحکم اور کرپٹ حکومت کی طرف سے اٹھایا ہوا قومی قرض غیر قانونی قرضہ کے طور پر مانا جاتا ہے. اس طرح کے قرض ایسےسمجھے جاتے ہیں جو حکمرانوں کے ذاتی قرضے ہیں جو ان کو اپنی زات پرخرچ کرتے تھے اور ریاست پر قرض نہیں ہےغیر قانونی قرضے کے خاتمے کے لئے سی اے ڈی ٹی ایم کمیٹی سے مدد حاصل کریں. .

آج دنیا کے ممالک 47 ٹریلین سے زیادہ سودی قرضے ڈوبے ہوئے ہیں
ایکواڈور، ارجنٹینا، پیراگوا وہ ممالک ہیں جنہوں نے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، پیرس کلب اور بینکوں کو اپنے وقار کے ساتھ قرض ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے، پاکستان کیوں نہیں؟


اسلام سختی سےسود کو منع کرتا ہے. یہ اللہ تعالی اور حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف جنگ ہے، یہاں تک کہ کمیونسٹ ممالک نے بھی سود پر کوئی قرض نہیں لیا.

سود بند کرو ... یہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے

سورة البَقَرَة

٢٧٧) يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِىَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ (٢٧٨) فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٍ۬ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ‌ۖ وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَڪُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٲلِڪُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ وَلَا تُظۡلَمُونَ (٢٧٩) وَإِن كَانَ ذُو عُسۡرَةٍ۬ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيۡسَرَةٍ۬‌ۚ وَأَن تَصَدَّقُواْ خَيۡرٌ۬ لَّڪُمۡ‌ۖ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ (٢٨٠)

مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو (۲۷۸)

اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور تمہارا نقصان (۲۷۹)

اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو توتمہارے لئے زیادہ اچھا ہے،.

 سنگاپور کے آئین کی طرح  سخت قوانین اور سنگین سزا کو فروغ دینا چاہیے جس سے سنگاپورین نے دنیا میں ایک اعلٰی مقام حاصل کیا ہے

  نظامِ انصاف میں مساوات کو فروغ دیں. قانون امیر یا غریب، طاقتور یا کمزور سب کے لئے یکساں ہو

قومی پروجیکٹس میں کرپشن کمیشن یا فراڈ کے لئے موت کی سزا ہوگی. اس قانون کت نفاذ کے بعد سنگاپور میں بدعنوانی کا خاتمہ پو گیا ہے. بدعنوانی کے الزام میں صرف ایک وزیر پر الزام لگا، اس نے تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی خودکشی کرلی تھی 

زندگی بچانے کی ادویات اورکھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کی سزا موت ہوگی، کیونکہ یہ بدعنوان مافیا لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں

منشیات (نشہ آور ادویات) کے کاروبار، اسکی پیداوار، فروخت اور اسمگلنگ پرموت کی سزا ہوگی چونکہ یہ بدعنوان مافیا نوجوانوں کئ زندگی کے ساتھ کھیل رہا ہے. اس طرح کے مجرموں کے خلاف ایف آئی آر پر کاروائی فوجی عدالت میں کی جائے گی

پبلک مقامات اور پراپرٹی کی توڑ پھوڑ اور وال چاکنگ کسی بھی اچھی سوسائٹی میں قابلِ برداشت نہیں، مجرم کو بھاری جرمانہ کے علاوہ تین سے دس کوڑے اورایک سے تین ماہ کی سزا کی دی جائے گی

سزا ئیں کسی بھی تمیز کے بغیر طاقتور یا کمزور تمام مجرموں کو برابر دی جائیں گی. سنگاپور نے امریکی سفیر کے لڑکے کو توڑ پھوڑ کی سزا دی، اگرچہ امریکہ کے صدر نےرحم کی اپیل کی اور سنگاپور سے سفارتیی تعلقات کو ختم کرنے کی دھمکی بھی دی

ذبردستی یا ٰٓعصمت دری اوربچے کے ساتھ بد فعلی کو سختی سے روکا جائے اور اس طرح کے مجرموں کوسرِعام موت کی سزا کے لئے سنگسار کیا جائے، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ظالمانہ سزا ہے توایسا گھناؤنے جرم کے ارتکاب سے دور رہیں

کسی شخص یا گروہ کی طرف سے خواتین اور بچوں کو جنسی ہراساں یا پریشان کرنا، برداشت نہیں کیا جائے گا، بھاری جرمانے کے علاوہ دس سے بیس کوڑے اورچھ سے بارہ ماہ کی سزا، غلط کالز یا انٹرنیٹ پر ہراساں کرنےکو بھی اسی طرح سے نمپٹا جائے

 کسی بچے پر یا کسی غریب یا عمر رسیدہ مزدور (مرد / عورت) کتوں کی مدد سے ظالمانہ حملہ کر نا گھر / دفتر / فیکٹری / زرعی زمین / اینٹوں کے بھٹہ وغیرہ پر کام کرنے والے کو سختی سے پیش آنے پر ایک مجرمانہ زہنیت والے وڈیرے ْ مالک کو فوری طور پر سرِ عام سزا بھاری جرمانہ اور قید کی سزا دے جائے

تمام ہتھیاریا اسلحہ کے عوامی استعمال کے لائسنس منسوخ کئے جائیں اور صرف سیکورٹی ایجنسیوں یا سرکاری محکموں کے علاوہ تمام ہتھیاریا اسلحہ واپس لے لیے جائیں، کسی بھی قسم کےغیرقانونی ہتھیاروں کے لۓ بھاری سزا ہوگی. یہ اصول بہت سے جرائم کی روک تھام میں مدد کرے گا.
   سنگاپور میں، عوامی جگہ پر چاقو رکھنا ایک ہتھیار ہی سمجھا جاتا ہے اورنا قابلِ ضمانت جرم ہے

مسلح ڈاکہ یا لوٹ مار برداشت نہیں کیے جائے گے، مجرموں کوسرِعام موت کی سزا دی جائے

تمام پولیس یا حکومتی ادارے رشوت کی روک تھام اور شفافیت کے لۓ ویڈیو ریکارڈنگز کریں

ایک صحت مند ماحول کے لیے، پبلک مقامات میں گندگی کا پھیلاو. چیوگم کھانا، تمباکو نوشی اور شیشہ وغیرہ کے استعمال پر سخت پابندی پو اور قابل سزا جرم ہوں

دھواں اڑاتی گاڑیاں اور پاورجنریٹرز کو دھویں سے پاک رکھا جائے اور کسی بھی خلاف ورزی پر سزا دی جائے

زیبراکراسنگ پر پیدل چلنے والوں کے حقوق کے تحفظ کی سختی سے نگرانی کی جائے

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا، جرمانہ کے علاوہ قید کی سزا اور ڈرائیور کے پوائنٹس میں کٹوتی، کچھ عرصہ کے لئے ڈرائیونگ کے لئے پابندی یا سنگاپور کی طرح پوری زندگی کےلیے ڈرائیونگ پر پابندی بھی ہو سکتی ہے

شراب نوشی یا نشے میں ڈرائیونگ کی سخت ممانعت ہو۔ کنٹرول کے لیے بھاری جرمانہ اورقید ہوگی. سنگاپور پولیس نے اپنے بابائے قوم کے والد کو پکڑا اور سزا دی اور ایک مثال قائم کی کہ قانون کے اوپر کوئی بھی نہیں ہے

چوری کوسختی سے روکا جائے اور چوروں کو سختی سے نبردآزما ہونا چاہیے، ایک پیشہ ور چورجوکہ خوشحال ہے یا وہ جو غریب ہے لیکن زکوۃ حاصل کرتا ہے سخت سزا دی جائے گی.سرِعام اس کا ہاتھ کاٹا جائے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ ظالمانہ سزا ہے تو براہ کرم چوری سے پرہیز کرو
اگر چور کو بھوک / غربت کی وجہ سے چوری کرتے پکڑا جاتا ہے تو اسکے علاقے کے بیت المال کا چیئرمین / زکوۃ کمیٹی کا رکن ذمہ دار ہو گا اور.اسے سزا دی جائے گی
 

قتل کی روک تھام کے لیے قاتل سے مقتول کے ورثا کو خونِ ودیت کی رقم کی ادائیگی ہو یا اسکی گردن سرعام قلم کی جائے ، اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ ظالمانہ ہے تو براہ کرم کسی کو قتل نہ کرو
ستمبر 1990 میں صدر غلام اسحاق خان نے قصاص اور دیّت آرڈیننس کو فروغ دیا، جو پاکستان کےپِینل کوڈ کے تحت مخصوص جرائم پر سزائے موت کو مسترد کرتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر قبول کردہ انسانی حقوق کے معیار کے مطابق سزا دیتا ہے، کیونکہ یہ ظالمانہ، غیر انسانی اور حد سے تجاوز ہے.

قتل کے معاملے میں، قصاص کا مطلب ہے کہ مقتول کے قریبی رشتہ دار یا ولی(قانونی سرپرست) کا حق خون بہا کی شکل میں ہے، اگر عدالت منظور کرے تو قاتل کی جان لے. قصاص اسلامی قانون میں کئی اقسام کی سزاؤں میں سے ایک ہے،جیسا کہ دوسرے حدود ،دیا اور تزیر.
قاتلوں کی سزا جسمانی ہے جبکہ قصاص دیّت میں خون بہا کی شکل میں ہے. قصاص کے حق کی مقتول کے قریبی رشتہ دار یا ولی کی طرف سے صرف اس کی درخواست کی جا سکتی ہے.

قاتل مقتول کے قریبی رشتہ دار یا ولی کوقصاص قبول کرنے کے لئے مجبور کر سکتا ہے. اس صورت میں مجرم سزائے موت کے الزامات سے آزاد ہوسکتا ہے. یہ ہمارے معاشرے میں ظلم ہوگا جہاں طاقتور اور امیر قتل کر کے مقتول کے خاندان کو خون بہا یا زبردستی سے قصاص سے قتل کی معافی حاصل کرنے کے لۓ آسان سہولت حاصل کرے.
ریاست کوقاتل کے لئے کم از کم 10 سال کی سزا عائدکرنی چاہیے، چاہےمقتول کے خاندان کی طرف سے معاف کردیے گئے
ہوں اور ریاست مقتول کے خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے، صرف اس قانون کے ذریعہ ہم سچا انصاف اور امن حاصل سکتے ہیں.

تقسیم وراثت کے قانون کا اطلاق مرنے والے کے وارثا پرقرآن کے مطابق ہو

کسی فرد/ ڈویلپر کا کسی دوسرے شخص یا حکومتی اراضی یا جائیداد پرغیر قانونی قبضہ کرنا یا کسی کی جائیداد کودھوکادہی کے ساتھ رکھنے والے کو بھاری جرمانہ کے ساتھ سخت سزائیں دی جایں جو کہ دس سے پچاس کوڑے اور طویل عرصہ تک کی قید پر مشتمل ہوتمام غیر قانونی جائیداد جو کہ اس سرکاری عاراضی پر قائم کی جائے جو جگہ عوامی فلاح کے لیے نہ رکھی گئی ہو سرکاری تحویل میں لی جائے اور بولی لگا کر نیلام کردی جائے اور باقی تمام غیرقانونی جائیداد جو عوامی فلاح کے لیے جگہ پر قائم گئی ہو مسمار کر دی جائے اور تمام الا ٹیز کو ڈیولپر کی طرف سے مکمل معاوضہ دیا جائے گا ہمارے جسٹس سسٹم کو بھی تمام حکومتی حکام کو مجرم قراردینا چاہیے اور سخت سزا دینی چاہیےجو کہ غیر قانونی قبضوں کی کارروائی میں ملوث رہے اور کوئی کارروائی نہ کی.

اگر غریب یا محتاج افراد کو رہنے یا چھوٹے کاروباروں کے لئے کسی بھی غیر قانونی ملکیت کا سہاررا ہو تو حکومت ان کے زندہ رہنے اور ان کی زندگیوں کوآسان کرنے کے لۓ مفت یا سستی متبادل جگہ فراہم کرے

اغوا برائے تاوان کو معاشرہ میں سختی سے روکا جائے . اس طرح کے واقعات کے تمام مجرموں کوسرِعام پھانسی دی جائے

کسی شخص کو کسی بھی کیس میں جھوٹی گواہی پر بھاری جرمانہ، پچیس کوڑے اور طویل عرصہ تک قید کی سزا دی جائے

ایف آئی ایف کو درج کروا نے کے لئے عوام کے لئے رشوت کے بغیر یا سیاستدانوں کی حمایت کے بغیر آن لائن ایف آر رجسٹریشن سسٹم مہیا کیا جائے

جھوٹے مقدمات اور ایف آئی آر کے اندراج کوہمارے معاشرے میں سختی سے روکنا ہوگا، ایسے مجرموں کووہی سزا دی جائے گی جو کہ معصوم ملزم کے خلاف جعلی طور پر دائرمقدمہ کی سزا کے مطابق ہو.اس طرح عدالتوں سے بہت سے غلط مقدمات کا خاتمہ ہوگا اور بہت سے جھوٹے الزامات سے معصومین کی خواری اورعدالت کا قیمتی وقت بھی بچے گا

رشوت ستانی، سفارش اورذاتی پسند نا پسند کا ہمارے ساتھیوں، رشتہ داروں، دوستوں یا اعلی عہدوں پر فائز افراد سے اظہارکا ہمارے معاشرے سے تدارک ہونا چاہیے اوران کی روک تھام کے لئے سخت قوانین اوراقدامات لینےچاہیں، تمام مجرموں کو سرِعام سزا دی جائے

ہماری معیشت کی ترقی کے لئے، تمام خام مال کی برآمد ممنوع ہوںگی اور پاکستان میں تیار کردہ اشیا کی برآمدات کو فروغ دیا جائے، نئی ٹیکنالوجیز کے علاوہ تمام اشیا کی درآمد پر پابند لگائی جائے

سود سے مکمل پاک معیشت اور بینکنگ سسٹم قائم ہو، چونکہ قرآن میں سود کو اللہ کے خلاف جنگ قرار دیا گیا ہے. ہمیں مکمل طور پر سودی مظام, آئی ایم ایف اور ورڈ بینک کے قرضوں سے بچنا ہو گا

تمام ملکی دولت لوٹنے والے دولتمند ملکی قرضوں اور سود کی ادائیگی کے ذمہ دارٹھرائے جائیں، ہمارے بینک بیت المال کے طور پر چلائے جائیں جوبلا سود کاروباری یا ذاتی قرضوں کی فراہمی کریں، تمام بینک اکاؤنٹس کرنٹ اکاؤنٹ ہوں گے، فکسڈ ماہانہ یا سالانہ سودی منافع کے بچت اکاؤنٹس ممنوع ہوں. مفاد ملتِ اسلامیہ کے لیے مسلم دنیا کی معیشت میں مدد کے لئے عالمی اسلامی فنڈ اور بینک قائم کیے جائیں

اندرونی یا بیرونی محافل میں اور حتہ کہ مساجد میں بھی غیرٖضروری لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر سخت کنٹرول ہو

تمام سرکاری اداروں اور نجی سیکٹر میں ندورانِ ملازمت نماز کا وقفہ دیا جائے

پولیس پیشہ ورانہ تفتیشی ٹیم کی طرف سے جرم ثابت ہونے تک کسی بھی ملزم کو ہتھ کڑی نہیں لگائے گی اور نہ ہی دورانِ تفتیش کسی ملزم پر تشدد نہ کیا جائے ، مجرم ثابت ہونے تک پولیس ملزم کا احترام کرے گی. یہ اقدام پولیس ڈپارٹمنٹ میں کرپشن ختم کرنے میں مددگار ہوں گے

قادیانی (احمدیہ) مسلمانوں کو کافر (غیر مسلم) قرار دیتے ہیں پاکستان کے آئین نے قادیانی کو مرتد قرار دیا ہے (یعنی جس نے اسلام کو چھوڑ کر اسلام مخالف مذہب اختیار کیا)
مرتد کی سزا جنہوں نے اسلام چھوڑنے کے بعد اسلام مخالفت کی، ان کے لئے ہے، نہ کہ ذاتی مذہب میں تبدیلی. مالیکی - دوبارہ واپسی کے لئے دس دن کی اجازت ہے، جس کے بعد مرتکب کو مارنا ہوگا. سنی مالکی فقیہ کے روایتی نقطہ نظر کے مطابق مرتکبین مرد اور عورت سزا کے مستحق ہیں.
قادیان پاکستان میں غیرمسلم اقلیت ہیں.کمپیوٹرائز شناختی کارڈ پر مذہب کے خانے میں یہ لکھا ہونا چاہئے کہ کارڈ ہولڈر قادیانی ہے  تمام نئے قادیان پر مرتد کی سزا عائد کی جائے

کچھ اور تجویزات

قوم کو مہذب اور زیادہ ذمہ دار شہری بنانے کے لئے ہمیں اپنے گھروں کے علاوہ سارے وطن کی ملکیت کا احساس پونا چاہیے، اس کے لیے ہمیں تہزیب، عزت نفس، خود پرکنٹرول، رواداری اور نظم و ضبط سیکھنا ہو گا

ون ونڈو آپریشنز کو تمام پبلک سروسز میں فروغ دیا جائے

ریستورانٹ میں کھانے کا کوالٹی کنٹرول اور صفائی کی جانچ پڑتال کے لیے کچن اوراس سے ملحقہ سٹورکے لائیو ویڈیوز کو کسٹمرسروس ایریا میں دیکھایاجائے

تازہ پھلوں کے جوس اور تازہ دودھ کے پیکجنگ پلانٹ پر سخت کوالٹی کنٹرول کیا جائے. کیا وہ خالص رس اور دودھ پیک کر رہے ہیں؟ کتنا تازہ دودھ خریدا اور کتنا پیک کیا جا رہا ہے وغیرہ

کھانے پینے کی اشیا خاص کر منجمد فوڈ، آئس کریم، کینڈ فوڈ، مشروبات وغیرہ پرخالص اور تازہ پونے کا سخت کوالٹی کنٹرول قائم کیا جائے

ادویات کے مینوفیکچررز اور چھوٹے میڈیسن پروڈکشن یونٹس پر سخت کوالٹی کنٹرول رکھیں

رمضان المبارک میں موسم گرما کے دوران، دن کو مارکیٹس، بنک اور آفس بند اور رات کےکھولے جائیں جیسے کہ یہ نظام سعودیہ. دبئی، ملائیشیا اور ترکی میں رائج ہے

سگریٹ، پان، نسوار، گٹکا، بیڑی، چونگ گم، چھالیہ وغیرہ کی مینوفیکچررز اور فروخت پر پابندی پو اور انکا استعمال سخت منع اور قابلِسزا اورجرمانہ ہو.ان اشیا کے منفی اثرات سے صحت کے مسائل کے بارے میں ٹی وی مئڈیا آگہی پیدا کرے

نئےچاند کے نکلنے پرنیا اسلامی مہینہ اور عید کے تہوار شروع ہوتے ہیں. پاکستان کے کچھ صوبوں میں نئے چاند کےدیکھنے میں اختلافات موجود ہیں. سعودیہ کےساتھ ہم پاکستان میں عید نہیں منانےتو پھر ہم کیوں چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام صوبوں کوایک ہی دن عید کا تہوار منانا چاہئے؟ ہر صوبے میں نیا چاند دیکھنے میں اختلاف ہے جس پرہم متفق نہیں ہوسکتے تو پھرہم سعودیہ کی پیروی کرلیں، چونکہ سعودیہ کے ساتھ ہمارے وقت کا فرق صرف دو گھنٹے ہی تو ہے

پاکستان کے پرچم پر چاند اورستارہ ہے جو کےہمیشہ شام اور رات میں چمکتے ہیں اس لیے ہمارا پرچم دن رات لہرانہ چاہیے تاکہ پاکستان دن دوگنی اور رات چگنی ترقی کرے ... آمین

ملائیشیا کی طرح تمام پاکستانی شہریوں کو شناختی کارڈ پرفرج، اوون، فوڈ فیکٹری، واشنگ مشین، ٹی وی، اے سی، یو پی ایس اوردیگر گھریلو اشیا وغیرہ کی خریداری کے لیے تین سے پانچ سالوں کے لیے بلا سود اور بغیر کسی گارنٹی کے فوری قرض کی سہولت دی جائے

ہر خاندان کا اپنا گھر ہونا چاہیے. حکومت تمام تیس ہزار سے کم آمدنی والے خاندانوں کو مفت 5 مرلہ رہائشی پلاٹس اوربلا سود گھر بنانے کے لئے آسان قرض فراہم کرے

حکومت کونو بیاہتا جوڑوں کے لئے بلا سود آسان قرض فراہم کرے.اجتمائی شادی کی تقریبات کو فروغ دیا جائے. زیادہ جہیزپر پابندی آئد جائے۔ ون ڈش شادی کا کھانا اور دعوت ِولیمہ کو فروغ دیا جائے

بینظیرانکم سپورٹ پروگرام پراربوں روپےخرچ کرنے کی بجائے غربا کو پیشہ ورانہ فنی تربیت اور کوٹیج انڈسٹری کے فروغ کے لیے بلا سود آسان قرضوں کی فراہمی سے تعمیرو ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں

حج، عمرہ، قربانی، شادی، چھوٹا کاروبار، کار، موٹر سائیکل، گھرہلو الیکٹرانکس، سفر، گھریلو اخراجات وغیرہ  کی ضروریات کو پورا کرنےکے لیے بچت کے لئے بیت المال (فلاح و بہبود فنڈ)  سے کمیٹی اسکیمز (ممبران کےتعاون سے مشترکہ ماہانہ بچت فنڈ) شروع کی جائیں

وفاقی حکومت کا سالانہ بجٹ مِڈ ٹرم بجٹری فریم ورک ایم ٹی بی ایف کی سفارشات
پر مبنی ہے. بجٹ کا ایک ذریعہ ہے جس میں پالیسی سازی، منصوبہ بندی اور ایک درمیانی مدت کےبجٹ کے ذریعہ فریم ورک میں شامل ہے. ایم ٹی بی ایف کو پہلے برطانیہ اور اب یورپی یونین کے ذریعہ سپانسر کیا گیا ہے
اقتصادی ہتھیاروں سے پاکستان کی معیشت کو محفوظ کریں جیسے کے ایم ٹی بی ایف کے نمائندے یورپی یونین کی طرف سے سپانسر ہیں جنہوں نے زرداری اور نواز شریف کے حکومتوں کے بجٹ بنائے ہوئے ہیں اور اب بھی پاکستان کے بجٹ میں ملوث ہیں.
.

تعلیم سب کے لئے کو فروغ دیناچاہیے، اس کے لیےمحدود قومی وسائل کے مدِنظر ہمں مختلف اقات پرایک ہی سکول کی عمارت میں لڑکے اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ کلاسز چلانا ہوں گی

حکومت چھوٹے کسانوں کو مفت زرعی زمین فراہم کرے اورانہیں شمسی توانائی سےچلنے والے ٹیوب ویلز، چھوٹے ٹریکٹرز اور زراعت کے سازوسامان کی خرید کے لئے بلا سود آسان قرض فراہم کرے

قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ اراکین کی اکثریت اکیلے قانون یا بل کومنظور نہیں کرسکیں گی، مسلح افواج کے تمام کور کمانڈرز یونین کونسل کی سطح پر تھنک ٹینکز کی طرف سے ووٹنگ کا حصہ بھی شامل ہوگا. اسلامی شرعی عدالتیں یہ بھی یقین دہانی کرینگی کہ نیا بل یا قانون اسلام کی روح کے عین مطابق ہے اورکہیں اسکا قرآن مجید سے کوئی تضادم تو نہیں؟ سب کی حمائیت سے ہی نئے قانہون یا بل کی منظوری دی جائے

تمام اعلی آسامیوں کا انتخاب سرف اور صرف پرمیرٹ ہوگا. تمام حکومتی محکموں کے سربراہان اور اعلٰی عہدوں کی تعیناتی میں کوئی سیاسی مداخلت یا سفارش نہیں چلے گی، مثلا ڈی جی نیب، ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین ایف بی آر، چیف سیکرٹریر، چیئرمین نادرا، چیئرمین پیمرا، چیئرمین پی آئی اے، چیئرمین او جی ڈی سی، چیئرمین بی آئی ایس پی، ڈی جی اوپی ایف، چیئرمین بیت المال، ایمبیسڈرز، گورنرز، یونیورسٹیوں کے وی سی الیکشن کمیشنرز، آر او، ججز، آئی جی پولیس اور ڈی پی او وغیرہ

سب کا بلا امتیاز احتساب ہونے کی اشد ضرورت ہے، وہ تمام افراد بمہ ان کے مدد گار اہلکار اور انکے اہلِ خانہ کا احتساب کیا جائے گا جنہوں نے کسی بھی غیر قانونی ذریعہ سے مال بنایا ہو یا کسی شخص کوغیر قانونی فائدہ پہچانے یا مالی بے ضابتگی میں معاونت کی ہو

ایک بار جب کسی شخص پر مالی بدعنوانی ثابت ہو جائے تواس شخص کو سرِعام پھانسی دی جائے اور اس کی جائیداد کو بحق سرکار ضبط کیا جائے اور اگر کوئی فرد کوکسی دوسرے فرد کو کرپشن کرنے میں مددگار ثابت ہوا تو ایسے مجرم کو سرِعام پانچ سے دس کوڑے مارے جائیں.اور بھاری جرمانے کے ساتھ ساتھ  طویل عرصہ جیل کی سزا دی بھی جائے

ہمیں ذاتی جائیداد کی حد کے قاانون کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے، جس کےتحتہ تمام شہریوں کو ایک مخصوص ساائزسے برابر یا کم پلاٹ اور مخصوص منزلہ عمارت، ایک ذاتی گاڑی اوردوسری خاندان کے استعمال کی گاڑی، ایک سے زائد گھر کی مالکیت کی اجازت نہ ہوجب تک کہ کسی شخص نے ایک سے زائد شادیاں کی ہوں

ہر فیملی کا تمام کیش اور سونا بیت المال میں جمع ہو گا اگر کسی کا فارم ہاؤس ہے تواس پر لازم ہے کہ وہ زراعت اور لائیو اسٹاک پیدا کرے ورنہ اس کا فارم ہاؤس بحق،سرکا ضبط کیا جائے

اگر کوئی شخص اپنے گھراور دوسری فیملی کے علاوہ زیادہ گھروں کا مالک ہو تو ریاست اسکی اضافی پراپرٹی خرید لے اور ضرورت مندوں کے استعمال کے لئے بیت المال کے حوالے کرے

یہ قانون روزبروز امیر افراد کو امیر تر اورغریب افراد کوغریب تر ہونےسے بچائے گا اور بدعنوانی کو کم کرنے میں بھی معاون ہو گ

پاکستان کی ترقی کے لیے جدید اصلاحات کی فہرست

اسلامی قوانین پر عمل اور فلاحی ریاست کا قیام

زراعت کی اصلاحات اورسر سبزو شاداب پاکستان

بھکاری مافیا کنٹرول

سیروسیاحت کا فروغ

سینسر بورڈ اصلاحات

کمیونٹی پولیس

جمہوریت بمقابلہ حاکمیتِ اعلٰی

نظم و نسق ٹریننگ پروگرام

تعلیمی اصلاحات

انتخابات اور سیاسی اصلاحات

توانائی کے بحران کی اصلاحات

ماحولیات اور صحت کی آگاہی

نظامِ انصاف کی اصلاحات

ملازمین کی کاروبار میں شراکت

مساجد کمیونٹی سینٹر کے طور پر

قومی خدمات پروگرام

شخصیت پرستی کا خاتمہ

ٹیکس پروموشن اور ایف بی آر کی اصلاحات

ٹی وی میڈیا کی اصلاحات

پاکستان کے لئے سمارٹ ٹیکنالوجی کا استعمال

الیکٹرانک نظامِ حکومت

گاڑیوں کا سستا ترین ٹریکنگ سسٹم

بجلی کی ترسیل میں نقصانات کے کنٹرول کی ٹیکنالوجی

الیکٹرانک روڈ ٹول ٹیکس کی ادائیگی کا نظام

الیکٹرانک ٹریفک کنٹرول سسٹم

دہشت گردی پر الیکٹرانک طائرانہ نظر

سب کیلئے ای موبائل فون کامرس

زندگی کے تمام شعبوں کے لئے صرف ایک شناخت

 

بحرِ بیکراں

Science in Quran

Let's Rebuild & Excel Pakistan

The Holy Quran Exhibition Park

Short Messages

بحرِ بیکراں

ZAHID IKRAM HOME INDEX

FB.com/Zahid.Ikram.Official

1998-2011 CCOL & ZAHID IKRAM