غم فرقت

غم فرقت سے نہ مرجاﺅں اتنا تو نہ تڑپائیے
طالب ہوں آپ کا خدا را مرے غریب خانے آئیے

خون جگر سے کی ہے فروزاں شمع انتظار
زندگی کا چراغ سحری بجھنے کو ہے آجائیے

آپ کی نظر کرم مرے تصور میں ساقی ہے ٹھری
رند میں آپ کا ہوں مجھے جام دیدار تو پلا جائیے

فراق یار میں نظریں  ہیں اشک فشاں
برسات عشق میں ڈوب رہا ہوں بچا جائیے

آپ جو بنے ہیں میرے دل سوزاں کی دھڑکن
آپ بن جیو کیسے مجھے اتنا تو بتا جائیے

آپ کا حسن دیدار ہے میری شراب حیات
ساقی تم میرے ہو اتنا تو فرما جائیے

اک سجدہ عشق ادا کرنا چاہتا ہے زاہد
 میرے ہاں چلے آئیے یا در اپنے اڑا جائیے


Poetry By Zahid Ikram

Back to Index Page